تاج پورہ مسائلستان بن گیا، واٹر ٹینک اور سیوریج منصوبے شہریوں کیلئے وبالِ جان

لاہور (نمائندہ خصوصی): تاج پورہ لاہور کی حالتِ زار نے حکومتی دعوؤں، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور منتخب نمائندوں کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ بنیادی سہولیات کے مسائل سے دوچار تاج پورہ کے مکین ایک طرف برساتی پانی اور ناقص نکاسیٔ آب کے مسائل سے نبرد آزما ہیں تو دوسری جانب واٹر ٹینک اور سیوریج کے نام پر شروع کیے جانے والے منصوبے طویل تاخیر، جگہ جگہ کھدائی اور نامکمل کام کے باعث شہریوں کے لیے سہولت کے بجائے نئی آزمائش بن گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے شروع کیے جانے والے منصوبے خود عوام کے لیے عذاب کیوں بن رہے ہیں؟

علاقے کی سماجی و سیاسی شخصیت محمد آصف سعید ایڈووکیٹ نے روزنامہ سعی لاہور سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاج پورہ کو طویل عرصے سے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ مختلف حکومتیں اور سیاسی نمائندے آتے رہے، وعدے ہوتے رہے، مگر علاقے کے بنیادی مسائل کا مستقل حل آج بھی نظر نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاج پورہ کے عوام کو صرف انتخابات کے دنوں میں یاد کیا جاتا ہے، جبکہ باقی عرصہ شہری اپنے مسائل کے ساتھ خود ہی لڑنے پر مجبور رہتے ہیں۔

محمد آصف سعید ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ماضی میں بارشوں کے دوران تاج پورہ میں پانی جمع ہونے کی صورتحال انتہائی سنگین ہو جاتی تھی۔ بارش کا پانی گلیوں، سڑکوں اور نشیبی مقامات پر جمع ہونے سے پوری اسکیم کئی مرتبہ سیلابی منظر پیش کرتی رہی۔ شہریوں کو گھروں سے نکلنے، بچوں کو اسکول بھیجنے اور روزمرہ معمولات جاری رکھنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

اسی مسئلے کے مستقل حل کے لیے بابری پارک، آمنہ مسجد اور ملحقہ علاقوں کے قریب واٹر ٹینک/تالاب کا منصوبہ شروع کیا گیا، جس کا مقصد بارش کے اضافی پانی کو ذخیرہ کر کے تاج پورہ کو زیرِ آب آنے سے بچانا تھا۔

تاہم علاقے کے مکینوں کے مطابق منصوبہ اپنی مقررہ مدت میں مکمل نہیں ہو سکا اور تاخیر مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ محمد آصف سعید ایڈووکیٹ نے سوال اٹھایا کہ اگر منصوبہ عوام کو بارش کے پانی سے نجات دلانے کے لیے شروع کیا گیا تھا تو اس کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر کیوں ہوئی؟ منصوبے کی مقررہ مدت، موجودہ پیش رفت، تاخیر کی وجوہات اور بڑھنے والی لاگت کے بارے میں عوام کو مکمل معلومات کیوں فراہم نہیں کی جاتیں؟

انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے منصوبے کی اصل لاگت، نظرثانی شدہ لاگت، تکمیل کی مدت اور اب تک ہونے والے کام کی تفصیلات عوام کے سامنے لائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ واٹر ٹینک کے مسئلے کے ساتھ تاج پورہ اور گردونواح میں سیوریج لائنیں بچھانے کے نام پر جگہ جگہ کھدائی نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔ کئی مقامات پر سڑکیں اور راستے کھودنے کے بعد بحالی کا کام بروقت نہ ہونے سے شہریوں کے لیے آمدورفت ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے۔ موٹر سائیکل سواروں، بزرگوں، خواتین اور بچوں کو بالخصوص مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ شہری یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ترقیاتی کام کب مکمل ہوں گے اور کھودی گئی سڑکیں کب بحال کی جائیں گی؟

محمد آصف سعید ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عوامی فلاح کے نام پر شروع کیے جانے والے منصوبے اگر برسوں تک نامکمل رہیں تو پھر ان منصوبوں کی افادیت اور نگرانی کے نظام پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی منصوبے میں تاخیر صرف تاریخ بڑھنے کا نام نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں عوام کی مشکلات، تعمیراتی اخراجات اور قومی وسائل پر اضافی بوجھ بھی بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے سیاسی نمائندگی کے موجودہ طریقہ کار کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران امیدوار تاج پورہ کے عوام سے بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں، مسائل حل کرنے کے دعوے کرتے ہیں، ووٹ حاصل کرتے ہیں اور پھر عوام اپنے بنیادی مسائل کے ساتھ تنہا رہ جاتے ہیں۔

ان کے بقول یہ سلسلہ اسی وقت ختم ہوگا جب تاج پورہ کے شہری ذاتی اور گروہی اختلافات سے بالاتر ہو کر اپنے علاقے کے اجتماعی مسائل پر متحد ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ تاج پورہ کے عوام کو کسی شخصیت یا سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ واٹر ٹینک کی بروقت تکمیل، سیوریج کا مؤثر نظام، کھودی گئی سڑکوں کی بحالی، نکاسیٔ آب اور دیگر بنیادی سہولیات عوام کا حق ہیں۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ تاج پورہ کے بنیادی مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے نامکمل ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے، کھودی گئی سڑکوں کی فوری بحالی کی جائے اور نکاسیٔ آب کے مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو بارش اور سیوریج کے مسائل سے نجات مل سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *