“انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے، مگر ہمارے نظام میں غریب اب بھی سب سے زیادہ محروم ہیے رانا راشد علی خان ایڈووکیٹ

خصوصی انٹرویوہ: لاہور کی قانونی برادری میں اگر چند ایسے ناموں کا ذکر کیا جائے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، اصولی موقف اور عوامی خدمت کے ذریعے اپنی شناخت قائم کی ہے تو رانا راشد علی خان ایڈووکیٹ کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے سینئر اور باوقار وکلاء میں شمار ہونے والے رانا راشد علی خان سول، ریونیو اور ٹیکس قوانین کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا وسیع کلائنٹ نیٹ ورک، قانونی معاملات پر گہری دسترس اور بار سیاست میں فعال کردار انہیں دیگر وکلاء سے ممتاز بناتا ہے۔
رانا راشد علی خان گزشتہ کئی برسوں سے ممتاز قانون دان پیر مسعود چشتی، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے چیمبر سے وابستہ ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا بنیادی محور قانون کی حکمرانی، انسانی خدمت اور مظلوم طبقے کو انصاف کی فراہمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ متعدد مواقع پر مستحق اور نادار افراد کو مفت قانونی معاونت بھی فراہم کرتے ہیں۔
انصاف صرف صاحبِ حیثیت افراد تک محدود نہیں ہونا چاہیے
روزنامہ سعی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے رانا راشد علی خان نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کوئی غریب شخص صرف مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اپنے حق اور انصاف تک رسائی حاصل نہیں کر پاتا تو مجھے شدید دکھ ہوتا ہے۔ انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ یہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم وکلاء کی بھی ذمہ داری ہے کہ ہم معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کو انصاف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں۔”
ان کے مطابق پاکستان میں آج بھی ہزاروں لوگ صرف غربت، قانونی پیچیدگیوں اور مہنگے عدالتی نظام کی وجہ سے اپنے جائز حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں۔
عدالتی نظام میں تاخیر انصاف کی روح کے خلاف ہے
پاکستانی عدالتی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے رانا راشد علی خان نے کہا کہ انصاف میں غیر ضروری تاخیر ایک بڑا مسئلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا:
“ہمارے عدالتی نظام میں مقدمات کے فیصلوں میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ سائل اپنے حق کے حصول کے لیے طویل انتظار کرتا ہے اور اس دوران بھاری اخراجات بھی برداشت کرتا ہے۔ بعض اوقات وکلاء بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری پوری طرح ادا نہیں کرتے جس کی وجہ سے مقدمات مزید طول پکڑ جاتے ہیں۔”

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ انصاف بروقت عوام تک پہنچ سکے، کیونکہ تاخیر سے ملنے والا انصاف بھی بعض اوقات ناانصافی کے مترادف ہوتا ہے۔
وکلاء اور سیاست ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے
بار سیاست کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا راشد علی خان نے کہا کہ وکلاء اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
انہوں نے کہا:
“پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وکلاء نے ہمیشہ جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ وکلاء کو سیاست میں حصہ لینا چاہیے، لیکن سیاست کا مقصد ذاتی مفادات نہیں بلکہ اداروں اور عوام کی خدمت ہونا چاہیے۔”
ان کے مطابق بدقسمتی سے موجودہ دور میں سیاست کا رخ فلاح عامہ کے بجائے ذاتی مفادات کی طرف مڑ گیا ہے جس کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پا رہے۔
بار سیاست میں سرمایہ داری کا بڑھتا اثر تشویشناک ہے
لاہور بار کے انتخابات اور وکلاء کی نمائندگی کے حوالے سے رانا راشد علی خان نے ایک اہم نکتہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بار کی قیادت ایسے افراد کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جو عملی طور پر وکالت کے شعبے سے وابستہ ہوں۔
انہوں نے کہا:
“میری رائے میں بار انتخابات میں ایسے وکلاء کو آگے آنا چاہیے جو مکمل طور پر پیشہ ورانہ وکالت سے وابستہ ہوں۔ ایسے افراد جو دیگر کاروبار چلا رہے ہوں اور صرف سیاسی مفادات کے لیے بار سیاست میں شامل ہوتے ہوں، وہ وکلاء کے حقیقی مسائل کو نہیں سمجھ سکتے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات سرمایہ اور اثر و رسوخ بار سیاست پر غالب آ جاتا ہے جس سے پیشہ ور وکلاء کی نمائندگی متاثر ہوتی ہے۔
تجزیہ: رانا راشد علی خان کا نقطۂ نظر کیوں اہم ہے؟
رانا راشد علی خان کی گفتگو دراصل پاکستان کے عدالتی اور بار نظام کو درپیش کئی بنیادی مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک طرف وہ غریب افراد کے لیے مفت قانونی امداد اور آسان انصاف کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، تو دوسری جانب عدالتی تاخیر، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور بار سیاست میں سرمایہ داری کے بڑھتے رجحان پر بھی تنقید کرتے ہیں۔

ان کی آراء سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں انصاف کی فراہمی صرف عدلیہ یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ وکلاء برادری بھی اس عمل میں برابر کی شریک ہے۔ اگر وکلاء، عدلیہ اور حکومت مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو انصاف کی فراہمی کا نظام زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکتا ہے۔
اختتامیہ
رانا راشد علی خان ایڈووکیٹ ان قانون دانوں میں شمار ہوتے ہیں جو وکالت کو صرف پیشہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کے خیالات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں انصاف کے نظام کو مزید مؤثر، تیز رفتار اور عوامی ضروریات کے مطابق بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہر شہری، خصوصاً غریب اور کمزور طبقہ، بلاامتیاز اور بلاخوف اپنے قانونی حقوق حاصل کر سکے۔یہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *