پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ہڑتال کی کال دے رکھی ہے

’میں نے پولیس والوں کی بہت منتیں کیں کہ خدا کے لیے کھانے پینے کی چیزیں گھر لے کر جانے دیں کیونکہ میرے گھر میں نوبت اب فاقوں تک پہنچ چکی ہے، بیوی بھی حاملہ ہے۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور کہا کہ کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کو اپنے ہاتھوں سے ضائع کر دو تو جانے کی اجازت ہے، ورنہ واپس چلے جاؤ۔‘

یہ الفاظ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی نوید (فرضی نام) کے ہیں۔ نوید کا تعلق پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے پاس واقع گاؤں عباس پور سے ہے اور وہ اپنے خاندان کے لیے راولپنڈی سے کھانے پینے کی اشیا جیسے آٹا، چاول، چینی اور دالیں لے کر اپنے گاؤں جا رہے تھے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کو پورا کروانے کے لیے ہڑتال کر رکھی ہے جسے دو ہفتوں سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے خطے کے تر حصوں میں کاروباری سرگرمیاں بند ہیں۔

اب ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ باہر سے خوراک اور پیٹرول لانے والی گاڑیوں کو ریاستی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔ اس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو روزمرہ ضرورت کی اشیا کی قلت کا سامنا ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ اگر لوگ اپنی ذاتی گاڑیوں میں محدود سامان لے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں بھی روکا جا رہا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام اور مظاہرین دونوں کی جانب سے حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی جا رہی ہے۔

جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی ترسیل ایک منصوبہ بندی کے تحت روکی گئی ہے اور اشیائے خور و نوش کے روکے جانے سے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ راولاکوٹ یا آزاد پتن میں پولیس نے کسی بھی ایسی گاڑی کو نہیں روکا جس میں کھانے پینے کا سامان لادا گیا ہو۔

احتجاج، کشمیر

’علاقے میں اشیائے خورد و نوش ناپید ہو رہی ہیں‘

نوید کا کہنا ہے کہ پونچھ سیکٹر کے قریب ایل او سی کے ساتھ 50 کے قریب گاؤں ہیں جہاں کی آبادی ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’تمام علاقے میں اشیائے خورد و نوش ناپید ہو رہی ہیں اور اب تو لوگوں نے گھروں میں جو سٹاک جمع کیا ہوا تھا وہ بھی ختم ہو رہا ہے۔‘

نوید راولپنڈی میں ایک نجی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ وہ عباس پور میں اپنی فیملی کے لیے راولپنڈی سے اشیا لے کر جا رہے تھے کہ آزاد پتن کے قریب پولیس اہلکاروں نے ان کی گاڑی کو روکا اور گاڑی کی تلاشی لینا شروع کر دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *