ہری پور(یواین پی)ہری پور میں بچی آیت نور کے زیادتی کے بعد قتل کے مقدمے میں گرفتار رہنے والے تین کم عمر لڑکوں نے ضمانت پر رہائی کے بعد دورانِ حراست مبینہ تشدد اور جنسی زیادتی کے سنگین الزامات عائد کردئیے ۔ضمانت پر رہا ہونے والے تینوں لڑکوں نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ پولیس حراست کے دوران انہیں انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔درخواست کے مطابق اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان کے ساتھ بدفعلی کی اور انہیں آپس میں بھی بدفعلی کرنے پر مجبور کیا۔ لڑکوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان الزامات کی تحقیقات کرکے انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔دستیاب معلومات کے مطابق تینوں لڑکوں کی عمریں 18 سال سے کم ہیں اور پولیس نے انہیں شک کی بنیاد پر گرفتار کیا تھا۔ دوسری جانب آیت نور قتل کیس کے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد انہیں مقدمے میں بے گناہ قرار دئیے جانے کی اطلاع ہے، جس کے بعد وہ ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے پر رہا ہوگئے۔رکن قومی اسمبلی بابر نواز خان نے بھی تینوں لڑکوں سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکوں کے ساتھ ظلم اور انسانیت سوز سلوک کیا گیا ہے اور انہیں انصاف دلایا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس معاملے کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں پیش کیا جائے گا۔تاہم پولیس حراست میں تشدد اور جنسی زیادتی سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ پولیس حکام کا موقف سامنے آنا باقی ہے۔
آیت نور قتل کیس، کم عمر ملزمان بے گناہ قرار، پولیس حراست میں مبینہ تشدد، جنسی زیادتی کے الزامات،د ر خواست دائرف لڑکوں کے ساتھ ظلم اور انسانیت سوز سلوک کیا گیا ، انصاف دلایا جائے گا، معاملہ قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی میں پیش کیا جائے گا،بابرنواز خان
