تاج پورہ میں بجلی کا عذاب، شہری بے حال!، محمد آصف سعید ایڈووکیٹ

لاہور (نمائندہ خصوصی) تاج پورہ اسکیم لاہور کے مکینوں کے مسائل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ پانی، گیس، سیوریج، سڑکوں اور صفائی کے بنیادی مسائل کے بعد بجلی کا ناقص نظام شہریوں کے لیے ایک مستقل عذاب بن گیا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے بجلی کی غیر معمولی بندش، بار بار ٹرانسفارمر جلنے اور وولٹیج کے خطرناک اتار چڑھاؤ نے شہری زندگی مفلوج کر دی ہے، جبکہ متعدد شکایات کے باوجود صورتحال میں نمایاں بہتری نہ آ سکی۔
تاج پورہ کی سیاسی و سماجی شخصیت محمد آصف سعید ایڈووکیٹ نے روزنامہ سعی سے گفتگو کرتے ہوئے بجلی کے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاج پورہ کے عوام پہلے ہی بنیادی سہولیات کے فقدان کا شکار ہیں، اب بجلی کے غیر مستحکم نظام نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسفارمر بار بار خراب اور جل جاتے ہیں اور ایک ٹرانسفارمر کے خراب ہونے پر پورے علاقے کی بجلی کئی کئی گھنٹے بند کر دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ شب بابری پارک کے سامنے ٹرانسفارمر جلنے کے باعث مبینہ طور پر پانچ سے چھ گھنٹے تک تاج پورہ کے بڑے حصے میں بجلی بند رہی۔ شدید گرمی میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
محمد آصف سعید ایڈووکیٹ نے کہا کہ اوور وولٹیج اور انڈر وولٹیج کا مسئلہ بھی انتہائی سنگین ہو چکا ہے۔ شہریوں کے مطابق بعض اوقات وولٹیج 260 سے 265 وولٹ تک پہنچنے کی شکایات سامنے آتی ہیں، جس کے باعث فریج، ٹی وی، پنکھے، موٹرز اور دیگر قیمتی برقی آلات متاثر ہونے کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران شہریوں کو مبینہ طور پر لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر شہری بار بار شکایات درج کروانے کے باوجود بھی محفوظ اور مستحکم بجلی حاصل نہیں کر سکتے تو ان کی داد رسی کون کرے گا؟ شہریوں کے مطابق آن لائن شکایات بھی مسلسل درج کرائی جا رہی ہیں، مگر مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہو رہا۔

محمد آصف سعید ایڈووکیٹ کا دوٹوک مؤقف

«”بجلی شہریوں کی بنیادی ضرورت ہے، تاج پورہ کے عوام کو اندھیروں، خطرناک وولٹیج اور آئے روز کی بجلی بندش کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ متعلقہ حکام فوری طور پر تاج پورہ کے بجلی کے نظام کا مکمل تکنیکی جائزہ لے کر مستقل حل نکالیں۔”»

اہل تاج پورہ کے بڑے سوالات

– ٹرانسفارمر بار بار کیوں جل رہے ہیں؟
– وولٹیج میں خطرناک اتار چڑھاؤ کا مستقل حل کیوں نہیں نکالا جا رہا؟
– شہریوں کی بار بار درج ہونے والی شکایات پر مؤثر کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟
– بجلی بند ہونے پر پورے علاقے کو کئی گھنٹوں تک انتظار کیوں کرنا پڑتا ہے؟
– شہریوں کے برقی آلات کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟

محمد آصف سعید ایڈووکیٹ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ تاج پورہ کے بجلی کے نظام کا فوری آڈٹ، ٹرانسفارمرز کی استعداد اور حالت کا جائزہ، وولٹیج کنٹرول کے مؤثر اقدامات اور شکایات کے فوری ازالے کا نظام یقینی بنایا جائے۔

اہل تاج پورہ کا کہنا ہے کہ اب صرف یقین دہانیوں سے کام نہیں چلے گا؛ عوام کو عملی اقدامات درکار ہیں۔ ورنہ بنیادی سہولیات کے مسائل میں گھرا یہ گنجان آباد علاقہ مزید مشکلات کی طرف دھکیلا جاتا رہے گا۔یہ ورژن سرخی + ذیلی سرخی + نمایاں بیان + سوالات کا باکس کے ساتھ اخباری فرنٹ پیج کے لیے زیادہ مؤثر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *